4 نومبر 2012 - 20:30

مکہ معظمہ کے ایک امریکی ہوٹل میں آتشزدگی اور دھماکے کے باعث ارد گرد کی کئی عمارتیں بھی آگ کے شعلوں کی نذر ہوئی ہیں؛ یہ ہوٹل وہابیوں کے کے مفتی عبدالعزیز آل الشیخ کے دفتر کے قریب واقع ہے/ وزیر داخلہ احمد بن عبدالعزیز برطرف، محمد بن نائف وزیر داخلہ مقرر کئے گئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مکہ معظمہ میں واقع انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں دھماکہ ہوا ہے جس سے سعودی حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم آگ کی وسعت کی وجہ سے آگ بجھانے کے لئے 15 ٹیموں نے آگ بجھانے کا کام شروع کیا ہے۔مکہ معظمہ سے آزاد ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ ابتداء میں ایک زوردار دھماکہ ہوا جو مسجد الحرام میں موجود حجاج کرام کے درمیان خوف و دہشت کا باعث ہوا اور اس کے بعد انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے جس سے قریبی عمارتیں بھی آگ کے شعلوں کی کی لپیٹ میں آئیں تاہم وہابیوں کے مفتی اعظم کے دفتر کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہيں ہوئی ہے جو ہوٹل کے ساتھ ہی واقع تھا۔ اس سے قبل دارالحکومت ریاض میں بھی کئی دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 60 کے قریب افراد جان بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ لنک ملاحظہ ہو: بلادالحرمین: دارالحکومت ریاض میں شدید دھماکہ متعدد ہلاک اور زخمی /باتصویر _ اپ ڈیٹاطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں مشکوک آتشزدگیوں اور دھماکوں کا سلسلہ گذشتہ ہفتے سے شروع ہوا ہے تاہم سعودی حکام کا اصرار ہے یہ سارے واقعات معمول کی انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہیں اور وہ تخریبکاری کے امکان کو مسترد کررہے ہیں تاہم القسیم میں 11 افراد کی مشکوک گرفتاری اور وزیر داخلہ احمد بن عبدالعزیز کی برطرفی کے پیش نظر بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ علاقے میں آل سعود کی ریشہ دوانیوں کی قیمت اب بلادالحرمین کے بےگناہ عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے جبکہ توقع یہ تھی کہ عالم اسلام میں حجاز کی مرکزیت کے پیش نظر اس ملک کے حکام کو غیرجانبدار رہنا چاہئے تھا اور اگر وہ غیرجانبدار اور پرامن ہوتے تو یہ واقعات اس مقدس سرزمیں میں کبھی بھی رونما نہ ہوتے اور ان اقدامات کا سلسلہ مکہ معظمہ تک نہ پہنچتا۔ انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل امریکیوں کمپنیوں کے گروپ آف ہوٹلز کا حصہ ہے اور مکہ معظمہ میں واقع ہوٹل کافی پرانا ہے جس میں وزارت خزانہ کے توسط سے سرکاری تقریبات اور کانفرنسوں کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔  ایک رپورٹ کے مطابق عینی گواہوں نے کہا کہ آگ سب سے پہلے کانفرنس ہال سے شروع ہوئی جہاں کوئی موجود نہ تھا اور آگ بھڑکنے کے ساتھ ساتھ کئی دھماکے ہوئے جس کے بعد دھوئیں کے بادل فضا میں چھاگئے۔ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے "گیس پائپوں" کے پھٹنے سے ہوئے اور آزاد ذرائع نے بتایا کہ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں تاہم سعودی شہری دفاع کے بعض اہلکاروں نے انٹرنیٹ سائٹوں میں "کسی بھی دھماکے کی آواز سنائی دینے کی خبر کی تردید کی"۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات "آتشزدگی سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے (؟!)" شروع ہوئی ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے ہوٹل کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کردیئے اور علاقے کو گھیرے میں لیا اور لوگوں کو قریبی پہاڑی میں چڑھنے سے بھی روک دیا۔مکہ معظمہ کے شہری دفاع کے اہلکار کرنل خلف المطرفی نے کہا کہ ہوٹل کا ایک بڑا حصہ زمین بوس ہوگیا ہے۔ دریں اثناء شہری دفاع کے ترجمان اور انوسٹی گیشن ڈائریکٹر "علی خضران المنتشری" نے کہا کہ اس حادثے کے اسباب جاننے کے لئے تحقیقات کا آغاز ہوا ہے اور یہ کہ فائربریگیڈ نے ہوٹل اور اطراف میں لگی ہوئی آگ پر قابو پالیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں دھماکے کل رات کو ہوئے تھے اور آگ بجھانے والی ٹیموں نے آج صبح تک آگ پر قابو پالیا۔ مکہ معظمہ کا انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل کا شمار اس شہر کے تاریخی اور قدیم عمارتوں میں ہوتا ہے اور اس ہوٹل کو حال ہی میں تعمیر نو کے لئے خالی کرالیا گیا تھا۔ گوکہ مکہ ایک تاریخی شہر ہے جس میں اس امریکی ہوٹل سے کہیں زيادہ عمارتیں اور دینی و تاریخی مقامات موجود تھے جنہیں آل سعود نے فری میسن انجنئیروں کے ذریعے جاری "مکہ ری ڈیزائننگ پراجیکٹ" اور وہابی تجاوزات کے ضمن میں نیست و نابود کیا گیا ہے اور لگتا ہے کہ اس شہر میں اب کعبہ سمیت صرف چند ہی پرانے اسلامی مقامات آل سعود کے تجاوزات کا شکار نہیں ہوسکے ہیں۔

گوکہ آل سعود کا اصرار ہے اور سعودی حکام اب بھی بلادالحرمین کے عوام کو یقین دہانی کروارہے ہیں کہ "سعودی عرب میں امن ہے" اور آل سعود کے ہاتھوں وسیع انسانیت کشی کا اثر اندرونی حالات پر اثر مرتب نہیں کرسکتی اور یہ کہ ریاض اور مکہ معظمہ میں رونما ہونے والے واقعات معمول کے حادثات ہیں جو انسانی غلطی کی بنا پر رونما ہوئے ہيں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو آل سعود کو شہری حکومتوں، بلدیات یا پھر ٹریفک پولیس اور آخرکار ٹرانسپورٹیشن کی وزارت کے خلاف اقدام کرنا چاہئے تھا لیکن دنیا نے دیکھا کہ مکہ معظمہ میں رونما ہونے والے واقعے کے بعد سعودی بادشاہ نے وزیر داخلہ اور اپنے بھائی احمد بن عبدالعزیز آل سعود کو ہٹادیا کر وزارت عظمی کا منصب اپنے بھتیجے اور سیکورٹی کے حوالے سے طاقتور ترین سعودی شہزادے "محمد بن نائف بن عبدالعزیز" کو سونپ دیا ہے اور سوال سوال یہی ہے کہ وزیر داخلہ کی تبدیلی کا مفہوم کیا ہوسکتا ہے سوائے اس کے آل سعود کی علاقائی پالیسیوں کا رد عمل بلادالحرمین میں آخر کار پہنچ ہی چکا ہے!۔اطلاعات کے مطابق سعودی بادشاہ نے وزیر داخلہ احمد بن عبدالعزیز آل سعود کو تبدیل کرکے محمد بن نائف بن عبدالعزیز کو نئے وزیر داخلہ کے عنوان سے مقرر کیا ہے۔  اس سے قبل ٹویٹر پر آل سعود کے راز افشا کرنے والے "مجتہد" نامی شخص نے انکشاف کیا تھا کہ محمد بن نائف بادشاہت کے حصول کے ہونے والی مسابقت میں اہم شہزادے ہیں جو بادشاہ کی موت کے ساتھ ہی پورے ملک میں امن و سلامتی کی بحالی کے لئے سیکورٹی فورسز تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور اس تعیناتی کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے انھوں نے پورے ملک میں دھماکوں کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن بظاہر ان کی طرف سے اس اقدام کی باری ابھی نہیں آئی ہے لیکن ایک بات مسلم ہے کہ انھوں نے وزیر داخلہ بن کر مزید قوت حاصل کرلی ہے۔

دریں اثناء آل سعود کے دالحکومت میں ایک پٹرول ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا ہے جس کے نتیجے میں دارالحکومت ریاض کے شمالی علاقے پر دھوئے کے بادل چھا گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ٹینکر صبح کے وقت اچانک سڑک سے ہٹ کر کئی گاڑیوں سے ٹکرانے کے بعد "خالد بن ولید پل" سے ٹکرایا اور آگ میں جل کر راکھ ہوگیا۔ اندرون خانہ اقتدار کی مسابقت کے حوالے سے ضرور مطالعہ فرمایئے:

آل سعود کو درپیش منظرناموں کی تفصیل؛

گھر کے بھیدی کے انکشافات: سعودی بادشاہ کی عمر 94 سال ہے/ ولیعہد الزہائمر میں مبتلا ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110